فرانس کی وہ یونیورسٹی جہاں جاسوس بنائے جاتے ہیں: ’میں اپنے سٹوڈنٹس میں سے زیادہ تر کا اصلی نام تک نہیں جانتا‘

20 ویں صدی کے اوائل میں بنائی گئی یہ عمارت، اس پر چھائی اداسی، یہاں کی مصروف مگر بے رنگ سڑکیں، اور ڈراؤنے نظر آنے والے بڑے بڑے دھاتی دروازے، اس جگہ کو مزید پراسرار بناتے ہیں۔

from BBC News اردو https://ift.tt/tkNqoIU

No comments:

Post a Comment