جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد سعودی عرب نے ایران کو نہ صرف اپنا ’برادر ملک‘ قرار دیا بلکہ اِن حملوں کو تہران کی خودمختاری کی خلاف ورزی بھی قرار دیا مگر اب محض نو ماہ بعد سعودی وزیرِ خارجہ ایران کو خبردار کر رہے ہیں کہ ’کشیدگی کا جواب کشیدگی سے دیا جائے گا‘ اور یہ کہ دونوں مملک کے درمیان اعتماد کا رشتہ اب ’ٹوٹ‘ چکا ہے۔ تہران اور ریاض میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے مصالحتی معاہدے سے جنم لینے والی امیدیں اب دم کیوں توڑ رہی ہیں؟
from BBC News اردو https://ift.tt/gSVC1Bw
No comments:
Post a Comment